ولادتِ باسعادت اور خاندانی پس منظر
سلطان الفقر، قطبِ مدینہ حضرت قبلہ حاجی غلام حیدر قادری ضیائی قدس سرہ العزیز 2 دسمبر 1941ء (بمطابق 13 ذوالحجہ 1360ھ) کو لاہور کے تاریخی قصبے باغبانپورہ میں ایک نہایت متقی، درویش منش اور صاحبِ زہد و تقویٰ گھرانے میں چودھویں کی رات پیدا ہوئے۔
آپ کے والدِ ماجد حضرت غلام محمد قدس سرہ العزیز اپنے وقت کے باکمال، خاموش طبع اور زاہد بزرگ تھے۔ وہ روزانہ نمازِ فجر کے بعد پنج سورہ شریف کی تلاوت فرماتے، پابندی سے نوافلِ اویس قرنیؒ ادا کرتے اور تاحیات حلال لقمے اور خودداری پر سختی سے قائم رہے۔ انہوں نے اپنے فرزندِ ارجمند کو بچپن ہی سے تقویٰ، صدقِ مقال، پرہیزگاری اور حلال روزی کی تلقین فرمائی۔
حصولِ تعلیم، خودداری اور رزقِ حلال
آپ نے ابتدائی دینی و دنیاوی تعلیم باغبانپورہ کے اسکول سے حاصل کی۔ بعد ازاں تاریخی درسگاہ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور میں داخلہ لیا اور پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کی۔ عربی و فارسی زبان و ادب میں غیر معمولی دلچسپی کے باعث آپ نے فاضلِ فارسی کی سند بھی امتیازی حیثیت سے حاصل کی۔
فراغتِ تعلیم کے بعد آپ نے اکاونٹنٹ جنرل (اے جی آفس) لاہور میں ملازمت کا آغاز کیا، جہاں آپ نے اپنی دیانت، سچائی اور امانت داری سے ادارے میں بلند نام پیدا کیا۔ تاہم، آپ کا دل سنتِ نبوی کے مطابق تجارت اور فقر کی طرف راغب تھا۔ چنانچہ 1970ء میں آپ نے سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے دیا اور خالصتاً سنتِ رسول اللہ ﷺ کی پیروی میں کپڑے کی تجارت شروع فرمائی، تاکہ کسی غیر کے احسان مند نہ رہیں اور دستِ سوال دراز کیے بغیر لنگرِ عام کا سلسلہ وسیع تر کر سکیں۔
مدینہ منورہ میں شرفِ بیعت (1970ء)
1970ء میں جب آپ حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے حرمین شریفین حاضر ہوئے، تو مدینہ منورہ میں دربارِ رسالت مآب ﷺ کی حاضری کے دوران آپ کو سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کے عظیم پیشوا، حسان الہند اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلویؒ کے خلیفہ اوّل قطبِ مدینہ حضرت ضیاء الدین مہاجر مدنی قدس سرہ العزیز کی بارگاہِ اقدس میں حاضری کا شرف نصیب ہوا۔
مسجد نبوی شریف کے باب المجیدی کے بالمقابل حضرت قطبِ مدینہ ضیاء الدین مدنیؒ نے آپ کے چہرے پر چمکتے ہوئے ولایت کے انوار کو فوراً پہچان لیا اور ازراہِ شفقت و کرم آپ کو سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت فرما کر خلافت و اجازت سے نوازا۔ یہی مبارک نسبت آپ کے نام کے ساتھ ضیائی کہلائی۔
35 سالہ رفاقتِ تاج الاصفیاء حضرت صوفی صدیق صاحب الرفاعیؒ
وطن واپسی پر لاہور کے چوبرجی چوک میں آپ کی ملاقات اپنے وقت کے بے مثل عارفِ باللہ اور سرخیلِ اولیاء حضرت صوفی صدیق صاحب الرفاعی قدس سرہ العزیز سے ہوئی۔ پہلی ہی نگاہ میں دونوں کاملین کے درمیان وہ روحانی رشتہ قائم ہوا جو 35 برس تک مسلسل قائم رہا۔
آپ نے 35 سال اپنے مرشدِ گرامی حضرت صوفی صدیق صاحبؒ کی خدمت، رفاقت اور روحانی تربیت میں گزارے۔ آپ روزانہ اپنی دکان سے فارغ ہو کر مرشد کی بارگاہ میں حاضر ہوتے، ان کے پاؤں دباتے، زائرین کی خدمت کرتے، اور شب بیداری و مجاہدات میں مشغول رہتے۔ حضرت صوفی صدیق صاحبؒ اکثر فرمایا کرتے تھے: "حاجی غلام حیدر میری جان اور میرے فقر کا وارث ہے!"
سرکار حاجی غلام حیدر قادری اپنے مرشدِ پاک تاج الاصفیاء حضرت صوفی صدیق صاحب الرفاعیؒ کے ہمراہ
کشف و کرامات اور روحانی مشاہدات
اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبِ کریم ﷺ کے صدقے سرکار حاجی غلام حیدر قادری ضیائیؒ کے دستِ حق پرست پر بے شمار ایسے معجزاتی واقعات اور کرامات ظاہر فرمائیں جن کے ہزاروں لوگ چشم دید گواہ ہیں:
سانگلہ ہل میں پانی کا پھوٹ پڑنا
سانگلہ ہل کے دورے کے دوران جب ایک خشک سالی کے شکار علاقے میں پینے کے پانی کا سخت قحط تھا، تو حضرت قبلہ نے زمین پر اپنا عصائے مبارک مار کر دعا فرمائی۔ اسی لمحے زمین سے میٹھے اور شفاف پانی کا چشمہ ابل پڑا جس سے پورے علاقے کی پیاس بجھی۔
بے اولاد کو اولادِ نرینہ کی نوید
ایک عقیدت مند میاں بیوی جن کی شادی کو 18 سال ہو چکے تھے اور اطباء نے مایوس کر دیا تھا، روتے ہوئے حاضر ہوئے۔ آپ نے مسکرا کر درودِ شفا پڑھنے کی تلقین فرمائی اور فرمایا: "اللہ نے چاہا تو اگلے سال گود میں بیٹا لے کر آؤ گے!" اللہ نے آپ کی زبان کی لاج رکھی اور اولادِ صالح عطا فرمائی۔
وینٹیلیٹر سے مریض کی معجزاتی شفا
لاہور کے میو اسپتال میں ایک نوجوان کو ڈاکٹروں نے برین ہیمرج کی وجہ سے ناقابلِ علاج قرار دے کر وینٹیلیٹر پر ڈال دیا تھا۔ لواحقین روتے ہوئے آستانہ حیدریہ حاضر ہوئے۔ آپ نے دم کیا ہوا پانی اور درودِ پاک کا تحفہ دیا۔ اگلی صبح وہ نوجوان ہوش میں آ کر خود اٹھ کر بیٹھ گیا۔
گولی سے معجزاتی حفاظت
ایک عقیدت مند ڈاکوؤں کی فائرنگ کی زد میں آ گیا۔ گولی اس کے سینے کی جیب میں رکھی ہوئی سرکار قبلہ کی عطا کردہ درودِ پاک کی کتاب میں پیوست ہو گئی مگر جسم کو ذرا سی بھی خراش نہ آئی۔
جانشینی و آستانہ عالیہ قادریہ حیدریہ
سرکار حاجی غلام حیدر قادری ضیائی قدس سرہ کے وصال کے بعد، ان کے لختِ جگر اور روحانی وارث صاحبزادہ سجاد حیدر قادری مدظلہ العالی نے آستانہ عالیہ قادریہ حیدریہ (مومن پورہ شریف، نزد قائد اعظم انٹر چینج لاہور) کی مسندِ سجادگی سنبھالی۔
آج آستانہ عالیہ حیدریہ میں روزانہ لنگرِ عام، ماہانہ محافلِ گیارہویں شریف، نعت خوانی، ذکر و اذکار اور سالانہ عرس مبارک اسی روحانی وقار اور عقیدت کے ساتھ منعقد ہو رہا ہے، اور فیض کا یہ دریا تاقیامت جاری رہے گا۔